Friday, 14 February 2014

ہماری  جان ہے اردو
ہماری شان ہے اردو
غموں کی بھیگی پلکوں سے لبوں کی مسکراہٹ تک
کسی گہری خموشی سے کسی کی شوخ آہٹ تک
محبّت کے  فسانے  کا  حسین عنوان ہے اردو

دکن کی شہزادی ہے یہی دلّی کی رانی ہے
عظیم آباد کی ملکہ اودھ کی یہ نشانی ہے
معزز صوفیوں کے گھر کا ایک گلدان ہے اردو

قطب شاہ میر غالب نے اسے نازوں سے پالا ہے
نکھارا درد نے اقبال نے اسکو سنوارا ہے
یہی طبلے  کی جاں ہے بانسری کی تان ہے اردو

صداقت کا لبادہ اوڑھ کر رہتی عدالت میں
محبّت کی صدا بن کر اترتی ہے  سماعت میں
ہے سچچائی یہی کہ فخر ہندوستان ہے اردو

بہار اپنا یقیناً جان اردو شان اردو ہے
یہاں  کے خطّے خطّے بسی اس کی ہی خوشبو ہے
کہ راسخ اور جمیل و شاد کی پہچان ہے اردو

کلیم عاجز شمیم شبنم و سلطاں پھول ہیں اس کے
ظفر خورشید اور  قاسم کے ہرسو رنگ ہیں بکھرے
اے چشتی مختصر یہ کی ہماری آن ہے اردو

No comments:

Post a Comment

Ghazal

ये सच है दोस्तो! रस्ता बदलने वाला हूं  मैं जिंदगी का तरीका बदलने वाला हूं वो सोचता था कि पिंजरा बदलने वाला हूं  किसे ख़बर थी परिंदा बदलने वा...